اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے وفاقی حکومت نے مشاورت تیز کردی ہے۔ اس معاملے پر 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب کیا گیا، جس میں صوبے کی موجودہ صورتِ حال اور مجوزہ آئینی اقدامات پر غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
روزنامہ دی نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں امن و امان کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے امکانات کا جائزہ لیا جانا ہے۔ بعض رپورٹس میں خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور باقی صوبے میں گورنر راج کے ممکنہ انتظامات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، ان تجاویز کی حتمی منظوری اور سرکاری نوٹیفکیشن کی تصدیق ضروری ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی کے مسائل پر تشویش ظاہر کی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے۔ اس معاملے پر مختلف سیاسی رہنماؤں کے مؤقف کے باعث صوبے میں آئندہ سیاسی صورتِ حال اہمیت اختیار کرگئی ہے۔





