خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی تو غیر قانونی اقدام کے الزام میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج، ایمرجنسی یا دونوں آئینی اختیارات کے استعمال سے متعلق معاملات پر مشاورت ہوئی ہے، تاہم حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتِ حال، پی ٹی آئی کے احتجاج اور صوبے میں امن و امان سے متعلق معاملات پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں صوبے کے مستقبل اور انتظامی معاملات کے حوالے سے اہم فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی
گورنر خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ گورنر راج نافذ کرنے، ایمرجنسی لگانے یا دونوں اقدامات کرنے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق اس معاملے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور آئندہ لائحہ عمل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔ اس لیے فی الحال کسی بھی اقدام کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مزید بات چیت کے امکان کو بھی مسترد کیا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
گورنر نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی کی جانب سے گورنر ہاؤس پر چڑھائی یا کوئی غیر قانونی اقدام کیا گیا تو اس پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتِ حال میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کا حکم دینے کا اقدام بھی زیرِ غور آ سکتا ہے۔ تاہم، گرفتاری سے متعلق یہ بیان گورنر کا مؤقف ہے؛ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وزیراعلیٰ کی گرفتاری کا کوئی باضابطہ حکم جاری ہو چکا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ اور صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال نے بھی سیاسی بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے امن و امان اور انتظامی معاملات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت صوبے میں اپنے سیاسی مؤقف اور احتجاج کے حق پر زور دیتی رہی ہے۔
فیصل کریم کنڈی کے بیان کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ وفاقی کابینہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔ کیا صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز سامنے آئے گی، ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق ہوگا یا حکومت کوئی دوسرا حل تلاش کرے گی؟ ان سوالات کا جواب کابینہ کے فیصلے اور حکومت کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی سامنے آئے گا۔اس فیصلے کے اثرات صوبے کی سیاسی صورتِ حال، امن و امان اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعلقات پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔





