اسلام آباد میں 22 سالہ طالبہ لائبہ کی پھندا لگی لاش ملنے کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ ایجنٹ بن کر مبینہ فراڈ کرنے والے ملزم نعمان کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم کرائے کا کمرہ لے کر روپوش تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون سے آن لائن فراڈ اور خواتین کو بلیک میل کرنے سے متعلق شواہد بھی ملے ہیں۔ ملزم کوئٹہ میں محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازم تھا، جہاں سے اسے معطل کیا گیا تھا۔ اس نے اسلام آباد کی ایک کمپنی میں بھی ملازمت کی تھی۔
اسلام آباد میں طالبہ لائبہ کیس
اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی اور وہ مزید تعلیم کے لیے امریکا جانا چاہتی تھی۔ اسی مقصد کے لیے اہلخانہ نے ایک کنسلٹنٹ سے رابطہ کیا، جس نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے لیے 70 لاکھ روپے طلب کیے۔
لائبہ کے والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرکے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ اہلخانہ کے مطابق انہوں نے پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے نقد ایجنٹ کو ادا کیے، جبکہ لائبہ کی والدہ نے زیورات بینک میں گروی رکھ کر باقی رقم کا انتظام کیا۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بعد میں لائبہ نے اپنی دستاویزات کی جانچ کرائی تو وہ جعلی نکلیں۔ اس انکشاف کے بعد خاندان کو مبینہ فراڈ کا علم ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ لائبہ نے آخری پیغام اپنے ماموں کو بھیجا تھا، جس میں اس نے درخواست کی کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے، کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔
واقعے کا مقدمہ درج ہونے اور ملزم کی گرفتاری کے بعد معاملے کی تحقیقات اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ پولیس کی تفتیش سے مبینہ فراڈ، جعلی دستاویزات اور طالبہ کی موت سے متعلق حقائق واضح ہونے کی توقع ہے۔ تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں اور ملزم کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
مزید تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریںhttps://nationalpoint.pk/11-Oct-2026/1048/





