نئی دہلی میں مسلسل دوسرے روز احتجاجی مظاہرے جاری رہے، جبکہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے رہنماؤں نے رہائی کے بعد بھی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں سے متعلق تنازع پر احتجاج کے دوران سکیورٹی سخت کردی گئی، اہم سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور دو دیگر سینئر رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ہفتے کے روز دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں اتوار کو مجسٹریٹ کی عدالت کے حکم پر انہیں رہا کردیا گیا۔
رہائی کے بعد بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
رہائی کے بعد ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ ان کی جماعت پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی دباؤ سے خوف زدہ ہوگی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی۔
رپورٹس کے مطابق رہنماؤں کو ایک سال تک امن و امان کی خلاف ورزی سے گریز کی شرط پر رہا کیا گیا۔
احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم مختلف ذرائع کی جانب سے زیرِ حراست افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد و شمار رپورٹ کیے گئے۔
چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیوں؟
کاکروچ جنتا پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جماعت کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے انتخابی عمل متاثر ہوا ہے اور بعض سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔ اس معاملے نے ملک میں انتخابی شفافیت اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق سیاسی بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا نام کیسے سامنے آیا؟
اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارت میں بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں ایک عدالتی ریمارک کو لے کر تنازع پیدا ہوا۔ ابھیجیت ڈپکے نے اسی پس منظر میں ’کاکروچ‘ کی اصطلاح کو اپنی مہم کا حصہ بنایا، جس کے بعد یہ تحریک سوشل میڈیا سے نکل کر احتجاجی مظاہروں تک پہنچ گئی۔
یہ جماعت بھارت میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں ہے، تاہم اس کی مہم کا مرکزی مطالبہ انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے سے متعلق ہے۔
دہلی میں مظاہروں اور سکیورٹی اقدامات کے باعث آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ رہنماؤں کی رہائی کے بعد تحریک کس سمت آگے بڑھتی ہے اور انتخابی فہرستوں سے متعلق تنازع پر حکام کا آئندہ مؤقف کیا ہوتا ہے۔





