پاکستان

اقرار الحسن کا 4 روزہ ریمانڈ منظور، پیکا کیس کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں

اقرار الحسن این سی سی آئی اے عدالت پیشی
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - اقرار الحسن کا 4 روزہ ریمانڈ منظور، پیکا کیس کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں
یہ بھی پڑھیں: کراچی: انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کیس، 3 گواہوں کے بیانات قلمبند

معروف صحافی اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو کراچی کی مقامی عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف اور ہتک آمیز مواد نشر کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

13 اکتوبر 2026 کو اقرار الحسن کو کراچی کی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ این سی سی آئی اے نے تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے چار روزہ ریمانڈ منظور کیا۔

اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ کیوں درج ہوا؟

ایف آئی آر کے مطابق، این سی سی آئی اے کا الزام ہے کہ اقرار الحسن نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بشمول ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک، کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، من گھڑت اور ہتک آمیز مواد نشر کیا۔

مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس مواد کا مقصد عوام کو ریاست، اس کے اداروں اور عہدیداروں کے خلاف اکسانا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں پیکا ایکٹ 2016 کی مختلف دفعات، بشمول 9، 10، 20، 24 اور 26-A، کا حوالہ دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید بھی اس معاملے کے پس منظر میں بیان کی گئی ہے۔ تاہم، مقدمے میں عائد الزامات تاحال ثابت نہیں ہوئے اور تحقیقات جاری ہیں۔

لاہور سے حراست میں لیے جانے کا معاملہ

اقرار الحسن کے اہلخانہ کے مطابق، انہیں اتوار اور پیر کی درمیانی شب لاہور میں واقع اپنی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا تھا کہ سادہ کپڑوں اور ماسک میں ملبوس افراد گھر میں داخل ہوئے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اقرار الحسن کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔

اس معاملے پر پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر ان کی تحویل کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی گئی تھی۔ بعدازاں اقرار الحسن کو کراچی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں این سی سی آئی اے نے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا۔

عدالت میں اقرار الحسن سے کیا پوچھا گیا؟

سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن سے استفسار کیا کہ آیا انہیں دورانِ حراست تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے جواب دیا کہ انہیں مارا پیٹا نہیں گیا۔

عدالت نے ان سے وکیل کی موجودگی کے بارے میں بھی پوچھا، جس پر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تاحال کوئی وکیل مقرر نہیں کیا۔

این سی سی آئی اے نے مقدمے سے متعلق مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی، لیکن عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔

اقرار الحسن کے خلاف مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں۔ جسمانی ریمانڈ کا حکم تفتیش کے لیے دیا گیا ہے، اسے جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

مزید خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں

اقرار الحسن گرفتار؟ لاہور سے اہم خبر، 5 بڑے انکشافات