کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے صحافی اقرار الحسن کو جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
اقرار الحسن کو منگل کے روز کراچی میں ضلع شرقی کے جوڈیشل مجسٹریٹ ون کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں این سی سی آئی اے نے مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ تاہم عدالت نے ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
اقرار الحسن کے ریمانڈ کے خلاف درخواست
جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت کراچی شرقی میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جسمانی ریمانڈ دینے کے لیے ٹھوس وجہ فراہم نہیں کی گئی۔
درخواست میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق اقرار الحسن کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے اور بظاہر ضبط شدہ شواہد انہیں مبینہ جرم سے جوڑتے ہیں۔
سیشنز عدالت کی جانب سے این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد اب اس معاملے میں ایجنسی کا مؤقف سامنے آنا اہم ہوگا۔
اقرار الحسن کے خلاف مقدمہ کس معاملے پر درج ہے؟
اقرار الحسن کے خلاف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرنے سے متعلق پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔
رپورٹ کے مطاب, اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اتوار کی شب لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نقاب پوش افراد انہیں گھر سے لے گئے۔
اہلخانہ کے مطابق تقریباً 30 گھنٹے تک انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا وہ تحویل میں ہیں اور انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔
اقرار الحسن کی تحویل سے متعلق حکام کا مؤقف
رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں این سی سی آئی اے کے حکام نے لاہور کی ایک عدالت میں اقرار الحسن کو اپنی تحویل میں لینے کی تردید کی تھی۔ پنجاب حکومت نے بھی کہا تھا کہ اقرار الحسن پنجاب پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب، کراچی کی عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس معاملے میں آئندہ عدالتی کارروائی اہم ہوگی۔
اقرار الحسن کے کیس میں اب توجہ اس بات پر ہے کہ عدالت جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور این سی سی آئی اے اپنے مؤقف میں کیا وجوہات پیش کرتی ہے۔





