بین الاقوامی

فرانس میں 45 سال سے سزائے موت بند! پاکستان سمیت دنیا کے لیے اہم پیغام، حیران کن حقائق جانیے

فرانس میں سزائے موت کا خاتمہ اور 45 سالہ تاریخ
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - فرانس میں 45 سال سے سزائے موت بند! پاکستان سمیت دنیا کے لیے اہم پیغام، حیران کن حقائق جانیے
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کو خود سے شرم آنی چاہیے،جیکسن ہنکل نے یو اے ای کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

پاکستان میں قتل، دہشت گردی اور دوسرے سنگین جرائم کے مقدمات میں سزائے موت کی خبریں اکثر سامنے آتی ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ فرانس میں گزشتہ 45 سال سے سزائے موت قانونی طور پر ختم ہے؟ صرف یہی نہیں، فرانس نے اس پابندی کو اپنے آئین میں بھی شامل کر رکھا ہے اور اب دنیا بھر میں سزائے موت کے خاتمے کی حمایت کر رہا ہے۔

فرانس کا یہ فیصلہ ایک دن میں نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کے پیچھے طویل سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کی جدوجہد شامل تھی۔ اکتوبر 2026 میں سزائے موت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر فرانس اور یورپی اداروں کے تازہ بیانات نے ایک بار پھر اس موضوع کوعالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

فرانس میں سزائے موت کب ختم ہوئی؟

فرانس میں 9 اکتوبر 1981 کو سزائے موت ختم کرنے کا قانون منظور ہوا۔ اس وقت فرانس کے وزیرِ انصاف رابرٹ بادینتر نے اس قانون کے حق میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس قانون کے تحت سزائے موت کی جگہ متعلقہ سنگین جرائم کے لیے عمر قید جیسی سزاؤں کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اس طرح فرانس نے اپنے عدالتی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی۔

اس فیصلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2026 میں فرانس کو سزائے موت ختم کیے جانے کے 45 سال مکمل ہو چکے ہیں۔

فرانس کے آئین میں بھی سزائے موت کی ممانعت

فرانس نے صرف عام قانون کے ذریعے سزائے موت ختم کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ 2007 میں اسے اپنے آئین میں بھی شامل کر دیا۔

فرانسیسی آئین کے آرٹیکل 66-1 کے مطابق کسی شخص کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ فرانس میں کسی سنگین جرم کے ملزم یا مجرم کو بھی قانونی طور پر سزائے موت نہیں سنائی جا سکتی۔ سنگین جرائم پر دوسری قانونی سزائیں دی جا سکتی ہیں، لیکن موت کی سزا نہیں۔

کیا فرانس میں اب بھی پھانسی دی جا سکتی ہے؟

نہیں، فرانس میں سزائے موت قانوناً ختم ہو چکی ہے۔ یہ پابندی صرف حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ قانون اور آئین کا حصہ ہے۔

فرانس بین الاقوامی سطح پر بھی سزائے موت کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے۔ فرانسیسی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سزا کو دنیا کے تمام ممالک میں ختم کیا جانا چاہیے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ فرانس کی قانونی پوزیشن اور پاکستان جیسے ممالک کے قوانین الگ ہیں۔ فرانس میں سزائے موت کا خاتمہ پاکستان میں خودبخود اس سزا کو ختم نہیں کرتا۔

10 اکتوبر 2026 کو فرانس نے کیا پیغام دیا؟

ہر سال 10 اکتوبر کو سزائے موت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر فرانس نے 9 اکتوبر 2026 کو جاری اپنے سرکاری بیان میں سزائے موت کی ہر جگہ اور ہر حالت میں مخالفت کا اعادہ کیا۔

یورپی یونین اور کونسل آف یورپ نے بھی مشترکہ بیان میں ان ممالک سے اپیل کی جہاں سزائے موت اب بھی نافذ ہے کہ وہ پھانسیوں پر فوری پابندی عائد کریں اور پھر اس سزا کو مکمل طور پر ختم کرنے کی جانب بڑھیں۔

ان اداروں کے مطابق سزائے موت ختم کرنے کی کوششوں کے باوجود دنیا کے بعض حصوں میں پھانسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بیان میں 2025 کے دوران ریکارڈ کی گئی پھانسیوں میں 2024 کے مقابلے میں 78 فیصد اضافے کا ذکر بھی کیا گیا۔

مزید خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں

ایران میں سزائے موت: کرمان حملوں کے کیس میں بڑا فیصلہ