پاکستان

سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف درخواست غیر مؤثر قرار، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

سہیل آفریدی تقرری کے خلاف درخواست وفاقی آئینی عدالت
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف درخواست غیر مؤثر قرار، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
یہ بھی پڑھیں: سکشن ہڈز کے بغیر شادی ہالز بند کرنے کا فیصلہ، بڑی کارروائی کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تقرری کے خلاف شیر افضل مروت کی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔

15 اکتوبر 2026 کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد درخواست پر مزید کارروائی کی گنجائش نہیں رہی، کیونکہ سہیل آفریدی اس وقت وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہیں۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ آئینی صورتحال میں درخواست پر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔

جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی دو الگ قانونی معاملات ہیں۔

شیر افضل مروت نے عدالت سے کیا کہا؟

سماعت کے دوران درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ وہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر ایمرجنسی ختم ہو جاتی ہے اور وزیراعلیٰ کا عہدہ بحال ہوتا ہے تو اس صورت میں نئی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔

شیر افضل مروت نے سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے اور اس کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے موجودہ حالات میں سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف درخواست کو غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دیا۔ عدالت کی کارروائی کا تعلق تبدیل شدہ آئینی صورتحال سے تھا، نہ کہ درخواست میں اٹھائے گئے تمام قانونی اعتراضات پر حتمی فیصلے سے۔

اس فیصلے کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج کے قانونی اثرات اور مستقبل میں وزیراعلیٰ کی بحالی سے متعلق صورتحال اہم رہے گی۔

مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گورنر راج پر اہم پیشرفت، پارلیمنٹ کے 3 اجلاس