ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے نئی روڈسٹر گاڑی پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سڑک پر تیز رفتاری سے چلنے کے ساتھ ہوا میں بھی بلند ہو سکے گی۔ تاہم، گاڑی کی حقیقی پرواز کی صلاحیت ابھی ثابت ہونا باقی ہے۔
ٹیکساس میں اسپیس ایکس کی ٹیسٹ سہولت پر ہونے والی تقریب میں ایلون مسک نے ٹیسلا کی دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش رکھنے والی نئی روڈسٹر دکھائی۔ ان کے مطابق گاڑی ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکے گی۔
گاڑی ہوا میں کیسے بلند ہوئی؟
تقریب میں دکھائے گئے مظاہرے کے دوران گاڑی نے خصوصی نظام کی مدد سے ایک ڈھلوان پر چڑھنے، الٹی حالت میں لٹکنے اور ہوا میں پلٹنے کے بعد نیچے اترنے کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ گاڑی نے ٹیسلا کی دوسری گاڑیوں کی قطار کے اوپر سے چھلانگ بھی لگائی۔
اس مظاہرے کے دوران گاڑی میں کوئی ڈرائیور موجود نہیں تھا۔ ایلون مسک نے وضاحت کی کہ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ کسی شخص کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔
ہوا میں بلند ہونے کے لیے خصوصی نظام
ایلون مسک کے مطابق روڈسٹر میں 10 نوزلز اور انتہائی زیادہ دباؤ والے ہوا کے ٹینک استعمال کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے گاڑی کو ہوا میں بلند کرنے اور زمین پر تیزی سے رفتار بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ گاڑی کی پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم، ٹیسلا کی تاریخ میں پہلے بھی متعدد منصوبوں کی مقررہ مدت میں تاخیر ہو چکی ہے۔
کیا گاڑی واقعی اڑ سکے گی؟
مظاہرے کے باوجود یہ واضح نہیں کہ نئی روڈسٹر طویل فاصلے تک پرواز کر سکے گی یا صرف مختصر وقت کے لیے زمین سے بلند ہو سکے گی۔
ماہرین کے مطابق ایسی گاڑی تیار کرنا ایک بڑا انجینئرنگ چیلنج ہے، کیونکہ ہوائی جہاز کو اڑنے کے لیے وزن کم رکھنا پڑتا ہے، جبکہ سڑک پر چلنے والی گاڑی میں حفاظت کے لیے اضافی ساخت اور دیگر سہولیات درکار ہوتی ہیں۔
کیلیفورنیا کی کمپنی ایلیف بھی اڑنے والی گاڑی تیار کر رہی ہے، جس کے تجرباتی ماڈل میں آٹھ پروپیلرز استعمال کیے گئے ہیں۔ تاہم، اس گاڑی کی صلاحیتیں بھی محدود ہیں۔
سمتھسونین نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے عمودی پرواز کے شعبے سے وابستہ ماہر راجر کونر کے مطابق، سڑک پر چلنے والی گاڑی کو حقیقی معنوں میں اڑنے کے قابل بنانا مشکل ہے۔ ان کے خیال میں مختصر وقت کے لیے ہوا میں بلند ہونا اور مسلسل پرواز کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔
اس لیے ٹیسلا کی نئی روڈسٹر کی اصل پروازی صلاحیت، حفاظت اور عملی استعمال کے بارے میں حتمی نتیجہ مزید تجربات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔
مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسرائیلی جاسوسی کا انکشاف، آن لائن اشتہارات کا خطرناک استعمال





