Abbas Araghchi Statement
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکا کو ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران کو مٹانا تھا، لیکن ایران اس جنگ سے مزید مضبوط ہوکر ابھرا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دوبارہ ایرانی قوم کو آزمانا چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں، تاہم اب انہیں محتاط رہنا ہوگا۔
نیتن یاہو پر امریکا کو جنگ میں دھکیلنے کا الزام
ایرانی وزیر خارجہ کے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے کردار کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا۔ عباس عراقچی کے مطابق، نیتن یاہو امریکا کو دوبارہ جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں سے متعلق بیانات خطے کی صورت حال کو عالمی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں پر ایران کا مؤقف
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران کو ختم کرنا تھا، لیکن ان کے بقول ایران اس جنگ کے بعد کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوکر سامنے آیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران کو دوبارہ آزمانے کی کوشش کرنے والوں کو محتاط رہنا چاہیے۔ ان کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت ممکنہ دوبارہ فوجی تصادم کے حوالے سے سخت پیغام دینا چاہتی ہے۔
کیا خطے میں دوبارہ جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے؟
عباس عراقچی کے بیان میں امریکا کو دوبارہ جنگ میں شامل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو کے ارادوں سے متعلق اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی نئی فوجی کشیدگی کے ممکنہ اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی سیاست پر پڑ سکتے ہیں۔ آئندہ صورت حال کا انحصار متعلقہ ممالک کے اقدامات اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔
نوٹ: نیتن یاہو کے ارادوں اور حملوں کے مقاصد سے متعلق بیانات عباس عراقچی کے دعوے ہیں؛ انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
Abbas Araghchi Statement





