امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں کے باعث ایران سے آنے اور جانے والی 80 سے 90 فیصد بین الاقوامی پروازیں متاثر ہو چکی ہیں۔
امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے سخت پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام نے اس نوعیت کی سخت پابندیاں پہلے نہیں دیکھی ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں کا اثر بین الاقوامی فضائی رابطوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر تعجب ہے کہ ایرانی وفد نیویارک سے واپس کیسے جائے گا۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق امریکا ان افراد اور اداروں سے واقف ہے جو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی مالیاتی نیٹ ورک کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے پیچھے امریکا کے تین اہم مقاصد ہیں۔ ان میں ایرانی حکومت کے اندر اختلافات پیدا کرنا، عوام میں حکومت کے خلاف ردعمل پیدا ہونا اور کسی معاہدے کی صورت میں ایران کی جانب سے اس کی مکمل پاسداری یقینی بنانا شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر معاشی دباؤ ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔





