Iran US Talks
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش اور امریکا کی جانب سے ناکہ بندی برقرار رکھنے کے مؤقف کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ایران کا مؤقف
ایرانی سفیر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس معاہدے کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ اس کی حمایت کرسکتا ہے یا نہیں۔
خبر کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے اگست 2026 میں اس دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور ممکنہ جارحیت کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے دفاعی نوعیت کا ہے۔
کیا پاکستان ایران اور امریکا میں مذاکرات بحال کرا سکے گا؟
پاکستان اس سے پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ایران کی تازہ پیشکش سے سفارتی رابطوں کے ایک اور امکان کا اشارہ ملتا ہے، لیکن مذاکرات کی بحالی کا انحصار دونوں ممالک کے مؤقف اور شرائط پر ہوگا۔
تاحال ایران کی تازہ پیشکش کے بعد واشنگٹن کی جانب سے کسی نئے معاہدے یا بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی باضابطہ منظوری کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کب شروع ہوں گے یا کوئی معاہدہ طے پاسکے گا۔
مزید خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
Iran US Talks





