بین الاقوامی

ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آئے تو دنیا کو بلیک میل کرسکتا ہے، مارکو روبیو

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آئے تو دنیا کو بلیک میل کرسکتا ہے، مارکو روبیو
یہ بھی پڑھیں: بورس جانسن کا عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ، پاکستانی حکام پر سنگین خدشات کا اظہار

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرلیے تو وہ اپنی طاقت کے ذریعے دنیا پر دباؤ ڈالنے اور آبنائے ہرمز کو توانائی کی رسد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور ایرانی تیل کو الگ کرکے دیکھا جائے تو اس راستے سے گزرنے والے تیل کی مقدار جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔

روبیو کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر ممکنہ زیادہ کنٹرول عالمی توانائی کی رسد کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرلیتا ہے تو تہران آبنائے ہرمز میں اپنی پوزیشن مضبوط کرکے وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے یا مختلف ممالک کی توانائی تک رسائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرسکتا ہے۔

روبیو نے ایران کے جوہری پروگرام پر کیا کہا؟

امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی موجودہ قیادت اور اس کی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کے مطابق ایران میں اہم فیصلے مذہبی قیادت کے زیر اثر ہوتے ہیں اور جوہری ہتھیاروں کا حصول ایسی قیادت کے ہاتھ میں ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

روبیو نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران کو پابندیوں میں نرمی یا معاشی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے وسائل عوامی فلاح کے بجائے ہتھیاروں کی تیاری اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت پر خرچ کرتا ہے۔

انہوں نے حزب اللہ، حماس اور عراق میں موجود بعض مسلح گروہوں کی حمایت سمیت دہشت گردی اور مبینہ قاتلانہ منصوبوں کی سرپرستی کے الزامات بھی عائد کیے۔

یہ تمام الزامات امریکی وزیر خارجہ کے بیان کا حصہ ہیں اور انہیں امریکی حکومت کے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اور جوہری مذاکرات اہم معاملہ

روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں آبنائے ہرمز اور ایران کا جوہری پروگرام دونوں اہم معاملات بنے ہوئے ہیں۔

ایک طرف آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے اہم ہے، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مرکزی معاملہ قرار دے رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری رہی ہیں۔ ایسے میں روبیو کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال امریکا کی جانب سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم سکیورٹی معاملات کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں۔