وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے یکطرفہ فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ دریاؤں کا مقصد قوموں کی ضروریات پوری کرنا ہے، انہیں تقسیم یا تنازع کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان پانی کے معاملے پر اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسئلے سمیت خطے میں امن، کشمیر اور دیگر اہم معاملات پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔





