بین الاقوامی

امریکا ایران کشیدگی کا اثر، خام تیل 106 ڈالر سے بھی مہنگا ہوگیا

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - امریکا ایران کشیدگی کا اثر، خام تیل 106 ڈالر سے بھی مہنگا ہوگیا
یہ بھی پڑھیں: ایران سے 80 سے 90 فیصد بین الاقوامی پروازیں متاثر، امریکی وزیر خزانہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے عالمی تیل مارکیٹ میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کردی، برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.49 ڈالر یا 1.4 فیصد اضافے کے بعد 106.77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 1.34 ڈالر یا 1.5 فیصد بڑھ کر 93.94 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

آبنائے ہرمز نے مارکیٹ کی تشویش بڑھا دی

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس راستے سے تیل اور گیس کی ترسیل میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے خدشات عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خطے سے خام تیل کی برآمدات میں بحالی کے کچھ اشارے بھی ملے ہیں، تاہم امریکا ایران تنازع اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات تقریباً 12.8 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو فروری کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے زیادہ ترسیل نے اس اضافے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم معمول کے راستوں کے بجائے بعض متبادل طریقوں سے تیل منتقل کیے جانے کے باعث اخراجات اور ترسیل کی مشکلات برقرار ہیں۔

کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ مارکیٹ میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر تنازع مزید طول پکڑتا ہے یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔

دونوں بڑے عالمی آئل بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں بھی تقریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے، جس کے بعد تازہ تیزی نے خام تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔

اہم نکتہ: تیل کی قیمتوں میں موجودہ تیزی کی بڑی وجہ مارکیٹ میں سپلائی اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ سے برآمدات میں بحالی کے اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں۔