امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فی الحال یہ نہیں بتا سکتے کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں کب ہتھیار ڈالنے یا گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگا، تاہم ان کے مطابق ایران کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔
وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران ابھی ہتھیار ڈالنے والا ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے اس موقع پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جب تک وہ خود اقتدار میں موجود ہیں، کم جونگ اُن ٹھیک رہیں گے۔
امریکا کی مصنوعی ذہانت میں برتری برقرار رکھنے کا عزم
امریکی صدر نے ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں سبقت حاصل ہے اور وہ اس برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ عہدیداروں کے ہمراہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک دستاویز پر دستخط بھی کیے۔
انہوں نے اس دستاویز کو تحفظ کی ایک صورت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز پر بھی اہم گفتگو
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خود احتسابی کا ایک مؤثر عمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اس صنعت سے وابستہ رہنما بھی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ ملاقات میں مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے موزوں مقامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کے مطابق جن علاقوں میں یہ ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جائیں گے، وہاں مقامی لوگوں کو مالی طور پر بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔





