ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
محسن رضائی نے یہ بات آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیوف سے ملاقات کے دوران کہی۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ ایک ایسی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کر پا رہے ہیں اور نہ ہی جنگ کے حوالے سے فیصلہ کر پا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے مایوسی کے باعث فوجی کارروائیوں میں فضائی محاصرہ کر رکھا ہے۔
ایران کا قفقاز میں امن سے متعلق مؤقف
محسن رضائی نے کہا کہ ایران قفقاز کے خطے میں امن کے قیام کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے بقول امریکا کا خطے میں کوئی مستقبل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی دفاعی صلاحیت کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنا دفاع کیا ہے۔
ایران کی 7 نکاتی تجاویز پر امریکی جواب کا انتظار
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کی گئی 7 نکاتی امن تجاویز پر امریکا کے جواب کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم تاحال ان تجاویز کو باضابطہ طور پر قبول یا مسترد نہیں کیا گیا۔
امریکا سے ایران روانگی کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا کہ نیوکلیئر پروگرام سے متعلق ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی 7 نکاتی تجاویز میں آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔
آذربائیجان کا ایران مخالف کارروائیوں سے متعلق مؤقف
ملاقات کے دوران آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفیوف نے اس دعوے کی تردید کی کہ آذربائیجان کی سرزمین ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی صورتحال اور قفقاز میں امن سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔





