عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ زمین پر ایک دن اور رات کا مجموعی دورانیہ 24 گھنٹے ہوتا ہے، لیکن سائنسی تحقیق کے مطابق حقیقت میں زمین کی گردش کی رفتار معمولی طور پر بدلتی رہتی ہے۔
ان تبدیلیوں کے باعث دن کا دورانیہ 24 گھنٹے سے چند ملی سیکنڈ کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق ہماری روزمرہ زندگی میں محسوس نہیں ہوتا، لیکن زمین کی گردش پر نظر رکھنے والے سائنس دانوں کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
حالیہ برسوں میں زمین کی گردش میں معمولی تیزی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق زمین کے اندرونی حصوں کی حرکت، سمندروں اور فضا میں ہونے والی تبدیلیاں، برف کے پگھلنے سے کمیت کی تقسیم میں فرق اور ال نینو جیسے موسمی عوامل زمین کی گردش کو متاثر کرسکتے ہیں۔
زمین کے اندر چھپا ’گیئر‘ کیا ہے؟
نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے زمین کے اندر کششِ ثقل کے ایک ایسے باہمی اثر کی نشاندہی کی ہے جسے ایک طرح کے ’پوشیدہ گیئر‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق زمین کا اندرونی مرکزہ باقی زمین کے مقابلے میں بالکل ایک جیسی رفتار سے گردش نہیں کرتا۔ اس کے نتیجے میں اندرونی مرکزے، مینٹل اور زمین کی مجموعی کمیت کے درمیان کششِ ثقل کے اثرات گردش کی رفتار میں معمولی تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں۔
محققین نے 1964 سے 2019 تک زلزلوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور زمین کے اندر موجود مائع دھات کی حرکت کے ماڈلز کا جائزہ لے کر اس تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی۔
کیا مستقبل میں ’لیپ سیکنڈ‘ نکالا جائے گا؟
زمین کی گردش میں یہ معمولی تبدیلی وقت کے عالمی نظام کے لیے بھی اہم ہے۔ ماضی میں زمین کی گردش نسبتاً سست ہونے کی وجہ سے گھڑیوں کے وقت کو زمین کی گردش کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے لیپ سیکنڈ شامل کیے جاتے رہے ہیں۔
اب زمین کی گردش میں موجودہ تیزی کے باعث مستقبل میں پہلی مرتبہ لیپ سیکنڈ منفی کرنے کی ضرورت پیش آنے کا امکان زیرِبحث ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ صورتحال 2029 کے آس پاس پیدا ہوسکتی ہے۔
تاہم سائنس دانوں کے مطابق زمین کی گردش میں تبدیلی کی صرف ایک وجہ نہیں ہے۔ مختلف زمینی، سمندری، ماحولیاتی اور اندرونی عوامل مل کر دن کے دورانیے میں انتہائی معمولی اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں۔
یعنی ہمارے لیے دن آج بھی تقریباً 24 گھنٹے ہی کا ہے، لیکن انتہائی درست سائنسی پیمائش میں زمین کی گردش مسلسل معمولی تبدیلیوں سے گزرتی رہتی ہے۔





