شوبز

ضروری نہیں سوتیلی مائیں بری ہوں، میری سوتیلی والدہ بہت اچھی ہیں: نازش جہانگیر

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - ضروری نہیں سوتیلی مائیں بری ہوں، میری سوتیلی والدہ بہت اچھی ہیں: نازش جہانگیر
یہ بھی پڑھیں: کچھ لمحات اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ انہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ماں کی زندگی کا نیا آغاز، اور اس سفر میں اس کے بیٹے اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ایک ماں کو زندگی کا نیا سفر شروع کرتے دیکھنا بذاتِ خود ایک انتہائی جذباتی اور دل گداز تجربہ ہے اور یہ منظر اس وقت مزید سحر انگیز اور خوبصورت ہو جاتا ہے جب اس کے اپنے جوان بیٹے اسے ہاتھ سے تھام کر شادی کے منڈپ (Aisle) تک لے کر جائیں۔

پاکستانی اداکارہ نازش جہانگیر نے اپنی سوتیلی والدہ کے ساتھ تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سوتیلی ماں کو برا سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ان کی اپنی سوتیلی والدہ نے خاندان کا بہت اچھے انداز میں خیال رکھا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں نازش جہانگیر نے اپنی ذاتی زندگی کا تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کے والد نے دوسری شادی کی تھی۔

اداکارہ کے مطابق شروع میں انہیں اس نئے رشتے کو قبول کرنے میں کچھ وقت لگا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کی سوتیلی والدہ نے اپنے رویے سے ان کا اعتماد حاصل کرلیا اور خاندان میں اپنی جگہ بنائی۔

نازش جہانگیر نے کہا کہ معاشرے میں سوتیلی ماں کے بارے میں کئی منفی تصورات اور کہانیاں پائی جاتی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ہر سوتیلی ماں کا رویہ ایک جیسا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی سوتیلی والدہ نہ صرف پورے خاندان کا اچھے طریقے سے خیال رکھتی ہیں بلکہ ان کے والد کی بھی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اس عمومی تصور سے اتفاق نہیں کرتیں کہ سوتیلی مائیں بری ہوتی ہیں۔

اداکارہ نے اپنے ایک ڈرامے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے سوتیلی ماں کا کردار ادا کیا تو انہیں اپنی حقیقی زندگی کے تجربات بھی یاد آئے۔

ان کے مطابق وہ اس دوران اپنی سوتیلی والدہ کو فون کرکے کہتی تھیں کہ اب انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی سوتیلی والدہ نے کن حالات اور جذبات سے گزرتے ہوئے خاندان میں اپنی جگہ بنائی ہوگی۔

نازش جہانگیر کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ ذاتی تجربات بعض اوقات معاشرے میں رائج عام تصورات سے بالکل مختلف ہوسکتے ہیں اور کسی بھی رشتے کو صرف ایک عمومی تاثر کی بنیاد پر پرکھنا درست نہیں۔