اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی کا لانگ مارچ سیاسی اور اٹل فیصلہ ہے، جبکہ احتجاج پرامن ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے گزشتہ روز ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تھا، تاہم آج ملاقات کا امکان نہیں۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی نہیں لگنی چاہیے کیونکہ ان کے مطابق ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ سیاسی فیصلہ ہے اور پارٹی کسی پر چڑھائی نہیں کر رہی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی تبدیلی کی خبروں سے متعلق کہا کہ سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ رہیں گے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کے حوالے سے بھی کہا کہ وزیراعلیٰ بننے کے خواہشمند افراد اپنی سی ویز جیب میں رکھیں۔
شوکت یوسفزئی کی جانب سے بھیجے گئے خط پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں خط واٹس ایپ پر موصول ہوا ہے اور یہ معاملہ ان کے اور شوکت یوسفزئی کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کو شوکت یوسفزئی سے کوئی ناراضی نہیں اور وہ اب بھی صوبائی سیکریٹری اطلاعات ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے اور اس میں اس نوعیت کے خطوط آتے رہتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کی ملاقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ضرور ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں ان کی شرکت کا فیصلہ محمود اچکزئی سے مشاورت کے بعد ہوگا۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ پہلے 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے مارچ کو سیاسی احتجاج اور پرامن رکھنے کا مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے۔





