اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت پر گورننس اور دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکامی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اپنے بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس کی ناکامی واضح ہے اور ان کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی روکنے میں ناکام رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کے تحت ہر سال دہشت گردی کے تدارک کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود خیبرپختونخوا میں کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دہشت گردی کے بڑے واقعات پیش آئے۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے صوبائی حکومت نے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست کو لوگوں کی زندگیوں پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے اور خیبرپختونخوا حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ان علاقوں پر توجہ دینی چاہیے جہاں دہشت گردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
گورنر راج کے سوال پر وفاقی وزیر نے اسے قبل از وقت قرار دیا، تاہم حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کے بعض رہنماؤں کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر بیانات سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے گورنر راج کی مخالفت کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون پر زور دیا ہے۔
عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی سیاسی صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں پارٹی سیاسی طور پر کمزور ہوچکی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کی قیادت کے حوالے سے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے





