ٹیکنالوجی کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (AI) کے امریکی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ایک اہم اندازہ پیش کیا ہے۔
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت اگلے سال امریکہ کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو تقریباً دوگنا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ معاشی شرحِ نمو تقریباً 2 فیصد ہے تو AI کی وجہ سے یہ شرح تقریباً 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس سے بھی زیادہ اضافے کا امکان موجود ہے۔
مسک کے اس بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو مستقبل میں صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اسے مجموعی معاشی ترقی کا ایک اہم محرک قرار دے رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پہلے ہی مختلف شعبوں میں کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے، جن میں سافٹ ویئر، صنعت، کاروبار، تحقیق اور خدمات شامل ہیں۔ AI کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پیداواری صلاحیت میں اضافے، کام کی رفتار بہتر ہونے اور نئے کاروباری مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تاہم، امریکی معیشت کی حقیقی شرحِ نمو پر AI کا اثر مختلف معاشی عوامل اور اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال پر منحصر ہوگا۔ مسک کا 4 فیصد کا اندازہ ایک پیش گوئی ہے، جسے مستقبل کے اعداد و شمار ہی حتمی طور پر پرکھ سکیں گے۔





