بین الاقوامی

امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی، قطر کی ثالثی بھی تعطل کا شکار

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی، قطر کی ثالثی بھی تعطل کا شکار
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک دوبارہ دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے مذاکرات سے واقف 3 ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطر کی جانب سے سفارتی پیش رفت کے لیے کی جانے والی کوششیں فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران دونوں اپنے اپنے مؤقف میں بڑی تبدیلی کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔

رپورٹ کے مطابق قطر مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔ حالیہ دنوں میں قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جہاں دونوں جانب سے زیرِ غور تجاویز پر بات چیت ہوئی۔

مذاکرات میں ایک اہم معاملہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی حکام ایران سے جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتیں چاہتے ہیں۔

Axios کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد قطری ثالثوں نے امریکی حکام سے بھی رابطہ کیا۔ اس سفارتی عمل میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سمیت دیگر حکام کی بات چیت شامل رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان، مصر اور دیگر علاقائی ثالث بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں اور ایران پر جوہری معاملات میں لچک دکھانے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔

تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری معاملات پر بامعنی بات چیت کے لیے پہلے امریکا کو جون میں طے پانے والے مفاہمتی فریم ورک کی جانب واپس آنا ہوگا۔ یوں اس وقت مذاکرات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق کسی بھی سمجھوتے کے لیے اقدامات کی ترتیب اور جوہری معاملے پر ایک دوسرے کی شرائط کو قبول کرنے پر متفق نہیں ہو سکے۔

امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان رابطے جاری رہنے کے باوجود موجودہ صورتحال کو سفارتی تعطل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ثالث ممالک کسی ممکنہ سمجھوتے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔