امریکی ریاست ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عملدرآمد کے دوران غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی، جب دو انجیکشن دیے جانے کے باوجود ان کی دل کی دھڑکن جاری رہی۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پائیک کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ سزائے موت پر عملدرآمد کے دوران ان کی موکلہ بے ہوش ہوگئیں، تاہم دل کی دھڑکن برقرار رہی۔ قانونی ٹیم نے اسی دوران ہنگامی درخواست دائر کرتے ہوئے عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کیا۔
پائیک کے ایک وکیل نے بتایا کہ 50 سالہ خاتون کو بعد ازاں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی تھی۔ وکیل کے مطابق انہیں پینٹوباربیٹل کی دو سرنجیں دی گئی تھیں۔
1996 کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت
کرسٹا پائیک کو 1996 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اگر سزا پر عملدرآمد مکمل ہوجاتا تو پائیک ٹینیسی میں دو صدیوں سے زائد عرصے میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 1970 کی دہائی کے بعد سے امریکہ میں 18 خواتین کو سزائے موت دی جاچکی ہے، جبکہ اسی عرصے میں مردوں کی تعداد 1,663 رہی ہے۔
نیش وِل میں عملدرآمد کی کوشش
رپورٹ کے مطابق سزائے موت پر عملدرآمد کی کوشش بدھ کی رات تقریباً 8 بجے مقامی وقت پر نیش وِل میں واقع ریوربینڈ میکسیمم سکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں کی گئی۔
اس واقعے کے بعد پائیک کی قانونی ٹیم کی جانب سے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی گئی، جبکہ ان کی طبی صورتحال اور سزائے موت پر عملدرآمد سے متعلق قانونی کارروائی مزید توجہ کا مرکز بن گئی۔





