بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر نے اپنی اداکاری کے ذریعے کئی ایسے کردار نبھائے جو آج بھی فلم بینوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ ان کی فلم ’کرانتی ویر‘ (1994) کا ایک یادگار منظر بھی انہی میں شامل ہے، جس میں وہ مذہب کے نام پر نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کو انسانیت کا پیغام دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
فلم کے اختتامی منظر میں نانا پاٹیکر کا کردار سماج میں پھیلی مذہبی تقسیم پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ انسانوں کے خون میں مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جاسکتا اور مذہبی شناخت کی وجہ سے ایک دوسرے سے نفرت کرنا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس منظر میں ان کے مکالموں اور جذباتی اندازِ اداکاری نے اسے فلم کا ایک نمایاں حصہ بنا دیا۔
فلم ’کرانتی ویر‘ 1994 میں ریلیز ہوئی تھی، جس کی ہدایت کاری میہول کمار نے کی۔ فلم میں نانا پاٹیکر نے پرتاپ نارائن تلک کا کردار ادا کیا، جو معاشرتی ناانصافی، بدعنوانی اور مذہبی منافرت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ فلم کا اختتامی مکالمہ خصوصی طور پر مشہور ہوا، جس میں وہ ہندو اور مسلمان کے خون میں فرق کرنے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر دونوں میں سے کس کا خون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منظر کی خاص بات یہ بھی تھی کہ فلم کے ہدایت کار نے نانا پاٹیکر کو معاشرتی مسائل اور انسانیت کے موضوع پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی آزادی دی تھی۔ اسی وجہ سے یہ منظر ان کی اداکاری کے یادگار مناظر میں شمار کیا جاتا ہے۔
نانا پاٹیکر کی ایک اور فلم ’دی اٹیکس آف 26/11‘ (2013) میں بھی مذہب، انسانیت اور انتہا پسندی کے موضوعات کو نمایاں کیا گیا۔ اس فلم میں انہوں نے ممبئی پولیس کے افسر رाकیش ماریا سے متاثر کردار ادا کیا۔ فلم کے ایک منظر میں ان کا کردار دہشت گردی کے نام پر مذہب کو استعمال کرنے والوں کو اسلام اور جہاد کے مفہوم کے بارے میں سمجھاتا ہے۔
ان مناظر کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مذہب کو نفرت اور تشدد کا جواز بنانے کے بجائے انسانیت، احترام اور امن کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ نانا پاٹیکر کی ان فلموں کے مکالمے آج بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آتے رہتے ہیں۔





