سائنس و ٹیکنالوجی

چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے 3 سالہ قانونی مقدمات میں پھنسا شخص مقدمہ جیت گیا، 300 پاؤنڈ کا جرمانہ منسوخ

چیٹ جی پی ٹی پارکنگ جرمانہ برطانیہ
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے 3 سالہ قانونی مقدمات میں پھنسا شخص مقدمہ جیت گیا، 300 پاؤنڈ کا جرمانہ منسوخ
یہ بھی پڑھیں: کیا دن واقعی ہمیشہ 24 گھنٹے کا ہوتا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

چیٹ جی پی ٹی اب صرف معلومات حاصل کرنے یا تحریریں لکھنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ لوگ اسے قانونی معاملات کو سمجھنے اور اپنے دفاع کی تیاری میں بھی استعمال کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں ایک شخص نے ChatGPT کی مدد سے تقریباً تین سال تک پارکنگ جرمانے کے خلاف جدوجہد کی، جس کا اختتام جرمانہ منسوخ ہونے پر ہوا۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایسیکس کے شہر چیمسفورڈ سے تعلق رکھنے والے رافال گورال کو اگست 2023 میں کارنوال کے ساحلی شہر نیوکئی میں پارکنگ کے معاملے پر 100 پاؤنڈ کا جرمانہ کیا گیا تھا۔

صرف 16 منٹ کی تاخیر نے معاملہ بگاڑ دیا

رافال کے مطابق، وہ پارکنگ کی ادائیگی کے لیے مشین کے پاس پہنچے تو وہاں لمبی قطار تھی۔ جب ان کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ مشین صرف نقد رقم قبول کر رہی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے موبائل فون پر RingGo ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے ادائیگی کرنے کی کوشش کی، جس میں مزید وقت لگ گیا۔

رافال کا کہنا تھا کہ وہ پارکنگ میں داخل ہونے کے تقریباً 16 منٹ بعد ادائیگی کر پائے۔ تاہم، دو ہفتے بعد انہیں 100 پاؤنڈ کا جرمانہ موصول ہوا، جس میں ادائیگی میں تاخیر کو وجہ بتایا گیا تھا۔

انہوں نے جرمانے کے خلاف اپیل کی، لیکن جنوری 2024 میں انہیں قرض وصول کرنے والی کمپنی کی جانب سے 170 پاؤنڈ کی ادائیگی کا مطالبہ موصول ہوا۔

چیٹ جی پی ٹی نے دفاع تیار کرنے میں کیسے مدد کی؟

رافال نے جرمانے کے خلاف جدوجہد جاری رکھی اور متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے موصول ہونے والے خطوط اور ای میلز کا ریکارڈ محفوظ کیا۔ انہوں نے ہر نئے خط کو ChatGPT کے ساتھ شیئر کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ انہیں کیا جواب دینا چاہیے اور اگلا قانونی قدم کیا ہوسکتا ہے۔

رافال کے مطابق، ChatGPT نے انہیں متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے، خطوط کے جوابات تیار کرنے اور عدالت میں پیش کیے جانے والے دفاع کی تیاری میں مدد فراہم کی۔

یہ معاملہ کچھ عرصے کے لیے رک گیا، لیکن نومبر 2025 میں انہیں ایک دوسری قرض وصول کرنے والی کمپنی کی جانب سے خط موصول ہوا، جس میں بتایا گیا کہ معاملہ اکتوبر 2026 میں عدالت تک پہنچ سکتا ہے۔

اس دوران جرمانے کی مجموعی رقم بڑھ کر تقریباً 300 پاؤنڈ ہوگئی تھی۔

عدالت جانے سے پہلے ہی مقدمہ واپس لے لیا گیا

رافال کے لیے اہم موڑ 25 ستمبر 2026 کو آیا، جب انہیں ای میل کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ پارکنگ کمپنی اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھائے گی اور جرمانہ بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

یوں تقریباً تین سال سے جاری قانونی تنازع اکتوبر میں طے شدہ عدالتی سماعت سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔ رافال نے اپنی کامیابی میں ChatGPT کی مدد کو اہم قرار دیا۔

تاہم، کمپنی نے مقدمہ واپس لینے کی وجہ واضح نہیں کی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ فیصلہ صرف ChatGPT کی تیار کردہ دستاویزات کی وجہ سے کیا گیا۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پیچیدہ خطوط کو سمجھنے، دستاویزات منظم کرنے اور اپنے مؤقف کی تیاری میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ البتہ قانونی معاملات میں AI کی فراہم کردہ معلومات کی تصدیق ضروری ہے اور اسے مستند قانونی مشورے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید تفصیلات جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں

ایک شخص چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے 3 سال سے جاری قانونی جنگ جیتنے میں کامیاب