پاکستان

بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو مذاکرات کا مشورہ، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی حمایت

بلاول بھٹو مذاکرات پی ٹی آئی خیبر پختونخوا ایمرجنسی
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو مذاکرات کا مشورہ، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی حمایت
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے بھارت کا ایک اور جھوٹ بے نقاب کردیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو تجویز دی ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی جائے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کر سکیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب کو متحد ہونا ہوگا، کیونکہ کوئی ایک فرد یا ادارہ تنہا اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

بلاول بھٹو کا مؤقف

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے آئین کے مطابق ایمرجنسی کی منظوری دی۔ ان کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات میں شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور ایمرجنسی کے فیصلے سے پہلے بات چیت کو موقع دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی لگانا کوئی خوشی کی بات نہیں اور حکومت نے یہ فیصلہ مجبوری میں کیا ہے، اسے ہمیشہ کے لیے نافذ نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے مطابق جب یہ معاملہ پہلی مرتبہ صدر کے پاس آیا تو اپوزیشن سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکراتی کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے دو نمائندے بھی شامل تھے۔

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر تنقید

بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ سیاسی اور قانونی صورت حال پر بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے کردار پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو بھی اپنے کردار پر غور کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کی جانب سے کوئی ٹھوس جواز پیش کیا جاتا تو صدر ایمرجنسی کی منظوری نہ دیتے۔ ان کے مطابق حکومت نے ایمرجنسی کے فیصلے سے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کو مذاکرات کی تجویز

بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے خاتمے کے لیے درمیانی راستہ نکالا جائے اور پی ٹی آئی کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قوتوں کو اپنا ہاتھ اپوزیشن کی طرف بڑھانا چاہیے تاکہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

بھارت اور دہشت گردی سے متعلق بیان

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے بھارت سے متعلق بھی گفتگو کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر کے ذریعے دہشت گردی کر رہا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے آپریشن سندور سے متعلق بیانات کا بھی حوالہ دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ کوششیں کرنا ضروری ہیں۔

ان کے خطاب کا اہم نکتہ یہ تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔

مزید خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں

گورنر راج پر اہم پیشرفت، پارلیمنٹ کے 3 اجلاس