بین الاقوامی

دفاعی نظام ہونے کے باوجود سعودی عرب کو درپیش چیلنج

نمائندہ نیشنل پوائنٹ - دفاعی نظام ہونے کے باوجود سعودی عرب کو درپیش چیلنج
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد کی مصری صدر سے اہم ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، علاقائی سلامتی پر گفتگو

جیوپولیٹیکل افیئرز نامی پبلیکشن سے منسلک تجزیہ کار اور ماضی میں مشرق وسطیٰ میں تعینات رہنے والے سابق امریکی فوجی اہلکار اینڈریو ڈیوڈسن کا خیال ہے کہ سعودی عرب ممکنہ خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اسے ’مسلسل یا بڑے پیمانے پر حملوں کے نتیجے میں مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

وہ سنہ 2025 میں آئی آئی ایس ایس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے پاس 108 پیٹریاٹ لانچرز موجود ہیں تاہم ’ایران کے خلاف جنگ نے یہ ظاہر کیا کہ اہم اہداف پھر بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ تناؤ کے دوران سعودی عرب کو اپنے دفاعی وسائل مذہبی مقامات، دیگر شہروں، فوجی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے درمیان تقسیم کرنا پڑ رہے ہیں۔

اینڈریو ڈیوڈسن کہتے ہیں کہ مخصوص مقامات کے گرد تحفظ مرکوز کرنے کا مطلب ہے کہ دیگر علاقوں کے لیے کم وسائل دستیاب رہ جاتے ہیں۔ ’ڈرونز کی کم بلندی پر پرواز کی وجہ سے ان کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ جبکہ مسلسل حملے انٹرسیپٹرز کے ذخائر پر دباؤ ڈالتے ہیں۔‘اگرچہ سعودی عرب کے موجودہ گولہ بارود کے ذخائر کی صورتحال عوامی طور پر معلوم نہیں تاہم انھیں خدشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کا یہ ملک بھی انٹرسیپٹرز کی عالمی قلت سے متاثر ہو سکتا ہے۔