شوبز

صبا فیصل کے طلاق سے متعلق بیان پر حرا خان اور زویا ناصر کا ردِعمل

Alt attribute format
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - صبا فیصل کے طلاق سے متعلق بیان پر حرا خان اور زویا ناصر کا ردِعمل
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نصرت بھروچا کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر کی تصدیق

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں طلاق سے متعلق صبا فیصل کے حالیہ بیان پر بحث جاری ہے۔ اداکارہ حرا خان اور زویا ناصر نے بھی صبا فیصل کے مؤقف پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

سینئر اداکارہ صبا فیصل نے ایک حالیہ گفتگو میں ماضی اور موجودہ دور میں طلاق کے حوالے سے معاشرتی رویوں کا موازنہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں خاندان میں طلاق کو انتہائی سنجیدہ اور تکلیف دہ واقعہ سمجھا جاتا تھا اور بعض خاندان طویل عرصے تک اس صدمے سے گزرتے تھے۔

صبا فیصل نے بتایا کہ ماضی میں بیٹی کی طلاق پر والدین، خصوصاً والد، سماجی دباؤ اور شرمندگی محسوس کرتے تھے، جبکہ ان کے مطابق آج بعض معاملات میں طلاق کو نسبتاً معمول کے انداز میں لیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے طلاق کے بعد بیرونِ ملک سفر کرکے ذہنی سکون حاصل کرنے والی خاتون کا بھی ذکر کیا۔

حرا خان کا سخت ردِعمل

صبا فیصل کے بیان کے بعد اداکارہ و ماڈل حرا خان نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے ردِعمل دیا۔ حرا خان نے لکھا کہ والدین کا سر جھک جانا اولاد کے جنازے سے بہتر ہے اور ساتھ ہی کہا کہ وہ پہلے بھی یہ بات کہہ چکی ہیں اور دوبارہ بھی کہہ رہی ہیں کہ صبا فیصل کو مدد کی ضرورت ہے۔

بعد ازاں حرا خان نے ایک تفصیلی سوشل میڈیا بیان میں خواتین کی عزت، تحفظ اور مشکل ازدواجی حالات سے نکلنے کے حق پر بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک طلاق کو خوشی منانے کی چیز نہیں سمجھنا چاہیے، تاہم خواتین کے لیے مشکل حالات میں علیحدگی کے حق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

زویا ناصر بھی گفتگو میں شامل

اداکارہ زویا ناصر نے بھی صبا فیصل کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اسے “خطرناک اور پیچیدہ بیانیہ” قرار دیا۔ ان کے تبصرے کے بعد طلاق، شادی، خاندانی توقعات اور خواتین کے فیصلوں سے متعلق بحث مزید نمایاں ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر نئی بحث

صبا فیصل کے بیان اور اس کے بعد حرا خان اور زویا ناصر کے ردِعمل نے سوشل میڈیا پر مختلف آرا کو جنم دیا ہے۔ بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ طلاق کو معاشرے میں کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے اور خاندانی عزت، سماجی دباؤ اور فرد کے ذاتی فیصلے کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔

یوں ایک اداکارہ کے بیان سے شروع ہونے والی گفتگو اب شوبز سے آگے بڑھ کر شادی، طلاق، خاندانی توقعات اور معاشرتی رویوں پر وسیع بحث کی شکل اختیار کر چکی ہے۔