سائنس و ٹیکنالوجی

اوپن اے آئی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس، سابق انجینئر گرفتار

اوپن اے آئی سابق انجینئر خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس کیس
نمائندہ نیشنل پوائنٹ - اوپن اے آئی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس، سابق انجینئر گرفتار
یہ بھی پڑھیں: شاباش پاکستانی فری لانسرز شاباش،ستمبر میں ریکارڈ سینکڑوں ملین ڈالرز آمدن

امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے سابق انجینئر عبدالرحمٰن الفوزان کو کمپنی کے دفتر میں خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 35 سالہ ملزم پر لوگوں کی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کی کوشش سے متعلق فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

دفتر کے اجلاس والے کمرے سے ڈیوائس برآمد

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 30 ستمبر 2026 کو اوپن اے آئی کے عملے کو سان فرانسسکو میں کمپنی کے ایک دفتر کے انتظامی اجلاسوں کے کمرے میں ٹی وی کے پچھلے حصے میں نصب یو ایس بی ڈیوائس ملی۔

حکام کے مطابق یہ آلہ ٹوائلٹ پیپر میں چھپایا گیا تھا اور اسے تقریباً 28 ستمبر کو نصب کیا گیا تھا۔ ڈیوائس میں موجود معلومات خفیہ تھیں اور انکرپشن کے ذریعے محفوظ کی گئی تھیں۔ <Cite

تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟

امریکی حکام کے مطابق دفتر کی نگرانی کرنے والی ویڈیوز میں ملزم کو اس کمرے کے قریب مختلف مواقع پر دیکھا گیا، حالانکہ اسے وہاں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت یا کمرے تک رسائی کی اجازت نہیں تھی۔

تحقیقات کے دوران حکام نے ایک ایسے بیگ سے بھی اسی نوعیت کی دوسری ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد ہونے کا ذکر کیا ہے جو ملزم کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام کی مدد سے ڈیوائس کا تجزیہ کیا اور معاملہ متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا۔ کمپنی نے ملزم کو ملازمت سے بھی برطرف کر دیا۔ >

کیا اوپن اے آئی کا خفیہ ڈیٹا چوری ہوا؟

اس واقعے کے بعد کمپنی کی حساس معلومات کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے۔ تاہم اوپن اے آئی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ایسے شواہد نہیں ملے کہ ملزم نے کمپنی کے اے آئی ماڈلز کے وزن، سورس کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی ہو یا یہ معلومات کمپنی سے باہر منتقل کی ہوں۔ <Cite refs=

ملزم کو کتنی سزا ہو سکتی ہے؟

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق عبدالرحمٰن الفوزان کو 9 اکتوبر 2026 کو گرفتار کیا گیا اور 13 اکتوبر کو ابتدائی طور پر وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔ حکام نے ان پر گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کی کوشش سے متعلق الزام عائد کیا ہے۔

اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جاتا ہے تو متعلقہ قانون کے تحت انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ ممکنہ سزا ہے، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔

واضح رہے کہ گرفتاری یا الزام عائد ہونے کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں ہے۔ ملزم کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

مزید خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں

چیٹ جی پی ٹی سے بڑی کامیابی! 3 سالہ قانونی جنگ ختم